نئی دہلی،6؍اکتوبر (ایس او نیوز؍یو این آئی) مہاراشٹر اور ہریانہ میں بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے پابند عہد کانگریس پارٹی دونوں ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے لئے اپنی مہم میں بے روزگاری اور ناقص معاشی صورتحال کا معاملہ اٹھائے گی۔ اس کے علاوہ جموں وکشمیر سے آرٹیکل 370 کو ہٹانے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ امریکہ اور بی جے پی کی ’قوم پرستی‘ کا جواب بھی پارٹی کی طرف سے معیشت کی خستہ حالت کا مسئلہ اٹھا کر دیا جائے گا۔
اقتصادی بحران کے مسئلے کو اٹھانے کے ساتھ ہی کانگریس مودی حکومت کو نشانہ بنانے کے لئے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو انتخابی مہم میں کھڑا کرنے کا بھی منصوبہ بنا رہی ہے۔ پارٹی کے ایک رہنما نے کہا ، ’’کانگریس کی مہم کی اصل توجہ عام آدمی اور اس سے پہلے کی روزمرہ کی پریشانی ہوگی۔ اس دوران کسانوں کی حالت زار اور معیشت کی خراب حالت ہی سب سے اہم مسائل ہوں گے۔‘‘
راہل گاندھی کے پارٹی صدر کا عہدہ چھوڑنے کے باوجود، وہ کانگریس کے اسٹار کمپینر ہوں گے۔ پارٹی کا خیال ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ووٹرز کو راغب کر سکتے ہیں۔ رہنما نے کہا کہ اگرچہ ان کے پروگرام پر کام ہو رہا ہے لیکن وہ اپنی انتخابی مہم 10 اکتوبر سے شروع کریں گے اور دونوں ریاستوں کے بیشتر مقامات پر روڈ شوز اور ریلیوں میں شرکت کی کوشش کریں گے۔
ادھر کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی بھی اسٹار کمپینروں کی فہرست میں شامل ہیں اور وہ بھی دونوں ریاستوں میں جلسے اور روڈ شو کریں گی۔ رہنما نے کہا کہ کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی صحت کی وجوہات کی بنا پر صرف کچھ جلسوں سے خطاب کریں گی۔ وہ ہر روز ایک جلسے سے خطاب کر سکتی ہیں۔